Showing posts with label Politician. Show all posts
Showing posts with label Politician. Show all posts

گالیاں دینےوالے شخص کے سارے کچے چٹھے جلد قوم کے سامنے آئیں گے، وزیراعظم

0 comments
دوسروں کو گالیاں دینے والے اپنے حال پر بھی غور کریں، نواز شریف۔ فوٹو : فائل
ملتان: وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ  گالیاں دینےوالے شخص کے سارے کچے چٹھے جلد قوم کے سامنے آئیں گے۔
ملتان میں میٹرو بس منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو ترقی کی سوجھ بوجھ نہیں وہ ملک میں ترقی کا راستہ روکنا چاہتے ہیں، کبھی دھرنے دے دیتے ہیں تو کبھی الزامات لگاتے ہیں تاہم ان کے اپنے الزامات کا سر پاؤں سمجھ نہیں آتا، ان کے اپنے معاملات الجھے ہوئے ہیں، ایک دن ان کے اپنے معاملات سامنے آئیں گے اور دنیا کو پتہ چلے گا کہ دوسروں کو گالیاں دینے والے شخص کا اپنا کردار کس طرح کا ہے، آئندہ آنے والے وقت میں ان کے سارے کچے چٹھے قوم کے سامنے آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ہم یہاں سیاست کرنے، کسی دھرنے اور کسی ترقی کا راستہ روکنے یا قوم کا وقت ضائع کرنے نہیں آئے بلکہ میٹرو کا تحفہ دینے آئے ہیں۔
اس خبر کو بھی پڑھیں : وزیر اعظم نے ملتان میں میٹرو بس منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کردیا
وزیراعظم نے کہا کہ بڑے بڑے دعوے کیے گئے تھے کہ نیا پاکستان بن رہا ہے لیکن نیا پاکستان کہاں ہے، کسی کو نیا پاکستان دیکھنا ہے تو وہ ملتان آکر دیکھے، ملتان کا نقشہ اور قسمت تبدیل ہورہی ہے، اس وقت بلوچستان میں سڑکوں کا جال بن رہا ہے، گوادر کی بندر گاہ بن رہی ہے آج تک کسی نے یہاں اتنی توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ جب سے پاکستان بنا ہے 15 ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی ہمارے سسٹم میں نہیں آئی لیکن اس سال 10 ہزار میگا واٹ ہمارے سسٹم میں شامل ہوگی، 2013 میں لوڈشیڈنگ کا کیا حال تھا لیکن آج اس میں کمی ہوئی ہے اور اگلے سال لوڈ شیڈنگ ختم ہوجائی گی۔


پاناما کیس؛ سپریم کورٹ نے مریم نوازکا تحریری بیان مسترد کردیا

0 comments
نواز شریف12اکتوبر کو گرفتار ہوئے، معاہدے کے تحت بیرون ملک گئے،وکیل جماعت اسلامی فوٹو: فائل
 اسلام آباد: پاناما کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نوازکا تحریری بیان ان کے دستخط نہ ہونے کی وجہ سے مسترد کردیا۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا  5 رکنی لارجر بنچ پاناما کیس کی سماعت کررہا ہے، سماعت کے دوران جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے کہا کہ دبئی مل کی ملکیت پرسنجیدہ شکوک ہیں، دبئی مل کے لئے طارق شفیع کا بیان حلفی درست نہیں تھا، جس پرجسٹس کھوسہ نے استفسار کیا کہ شکوک کا فائدہ کس کو جاتا ہے۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے استفسارکیا کہ کیا آپ نے اس کوغلط ثابت کرنے کے لئے جوابی بیان حلفی دیا تھا۔ جس پر توفیق آصف نے کہا کہ عدالت اگر چاہے تو شہادتیں بھی ریکارڈ کرا سکتی ہے۔
توفیق آصف کی جانب سے ظفرعلی شاہ کیس کا حوالہ دینے پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ عدالتی فیصلے میں لندن فلیٹس کے بارے میں کوئی بات نہیں تھی،عدالت نے فیصلہ میں مبینہ کرپشن کا ذکر کیا، مبینہ کرپشن کو فیصلہ نہیں کہہ سکتے۔
جماعت اسلامی کے وکیل نے اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے استدعا کی کہ نوازشریف پر تمام درخواست گزاروں کو جرح کا موقع دیا جائے۔ جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر ضرورت ہوئی تو نوازشریف کو بلائیں گے ورنہ نہیں۔
سماعت کے دوران مریم نواز کے وکیل شاہد حامد نے دلائل کا آغازاپنی موکلہ کے بیان سے شروع کیا، جس میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں شادی شدہ خاتون ہوں، میرے تین بچے ہیں جن میں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے، میرے شوہر نے 1986 میں پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا، 1992 میں حاضرسروس کیپٹن سے میری شادی ہوئی، 1992 کے بعد سے میں کبھی بھی اپنے والد کے زیرکفالت نہیں رہی، میرے خاوند نے بعدازاں سول سروس جوائن کرلی لیکن انہیں غیر قانونی طور پر ملازمت سے برطرف کیا گیا۔ میرے شوہر1986سے ٹیکس ادا کررہے ہیں، ان کی آمدن کی تمام تفصیلات عدالت کو فراہم کردی ہیں۔
مریم نواز کا اپنے تحریری بیان میں کہنا تھا کہ 1999 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خاتمے کے بعد میرے والد اور شوہر کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا، جس پر وہ اپنے شوہر اور والدین کے ہمراہ سعودی عرب چلی گئیں، 2007 میں جلاوطنی ختم کرکے واپس آئے اور شمیم ایگری فارم میں رہائش اختیارکی، جن کی مالک میری دادی تھیں، میرے شوہر 2008 اور 2013 میں ایم این اے منتخب ہوئے۔ میرے والد نے مجھے جو بھی قیمتی تحائف دیے وہ والد کی شفقت کے تحت دیے اوراس میں والدہ اوربھائیوں کی رضامندی بھی شامل تھی۔ میں کبھی بھی لندن فلیٹس کی بینیفشل اونر نہیں رہی اور نا ہی کبھی ان سے کوئی مالی فائدہ حاصل کیا ہے۔ عدالت نے مریم نواز کا پیش کردہ بیان اس پردستخط نہ ہونے کی وجہ سے مسترد کردیا، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ دستخط کے بغیر مریم نواز کے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
دوسری جانب  پاناما لیکس پرجوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواستوں کو الگ کردیا گیا ہے، اس سلسلے میں عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ درخواستیں مختلف نوعیت کی ہیں، اس لئے انہیں یکجا کرکے الگ سے سنا جائے گا اوراس کی سماعت سپریم کورٹ کے علیحدہ بینچ کے روبرو ہوگی۔